ہفتہ، 24 نومبر، 2018

ویڈیو: ہمارا تمہارا خدا بادشاہ

0 comments
ابن کنول کا افسانہ "ہمارا تمہارا خدا بادشاہ" موجودہ سیاست پر ایک گہرا طنز ہے۔ اس افسانے کے سبھی کردار اگرچہ داستانوی فضا میں سانس لے رہے ہیں لیکن اس کے پردے میں موجودہ نظام پر چوٹ کی گئی ہے۔ 
پہلی بار انہی کی زبان سے یہ افسانہ سنیں:
ویڈیو ایڈیٹر: ڈاکٹر عزیر


جمعرات، 7 جون، 2018

ویڈیو: موریشش کا سونا

0 comments
موریشش کے لیے لکھی گئی یہ نظم خود ابن کنول کی زبانی سنیں
ویڈیو ایڈیٹر: ڈاکٹر عزیر احمد




اتوار، 6 اگست، 2017

ایک ہی راستہ

0 comments
 وہ اندر ہی اندرآتش فشاں کی طرح پک رہا تھا اور اُس کے اندرایک اضطرابی کیفیت موجزن تھی ۔ اُس نے اپنے ذہنی اور قلبی سکون کے لیے تمام طریقے اختیار کر لیے تھے لیکن ہر بار ناکام رہا ۔ وہ بالکل مایوس ہو چکا تھا اسے یقین ہوگیا تھا کہ اس عالمِ آب وگل میں چہار جانب اس قدر انتشار پھیلا ہوا ہے کہ صاحبِ چشم نظر انداز نہیں کرسکتا ۔ ہر روز اس کے دل میں یہ خدشہ پیدا ہواتا تھا کہ آج قیامت کا دن ہوگا اور یہ دنیا نیست ونابود ہوجائے گی کہ اس نے بزرگوں سے قیامت کی نشانیاں سُنی تھیں اور وہ ان تمام علامتوں کو روزانہ دیکھ کر سُن رہا تھا قیامت کے انتظار میں پورا دن گذرارنے کے بعداسے یہ بات بھی مضطرب کرتی تھی کہ موجودہ برائیوں کے علاوہ اب وہ کونسی برائیاں ہوں گی جن کو قیامت کا سبب بتایا جائے گا ۔ وہ سوچتا تھا کہ میں کیوں اپنے اطراف کی دنیا کو دیکھ کر پریشان ہوں میں پیغمبر نہیں ہوں کہ اہل دنیا کی نجات کے لیے فکر مند ہوں ۔ میں گوتم نہیں ہوں کہ راج پاٹ چھوڑکر درخت کے نیچے جابیٹھوں ۔ میں عیسیٰ نہیں ہوں کہ دُکھی افراد کے لیے مسیحا بنوں ۔ میں بھی ان کروڑوں انسانوں میں سے ایک ہوں جو زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے کی انہیں مہلت نہیں ہے ۔ سب کے چہروں پر بظاہر اطمینان ہے ، پھر میں کیوں بے چین ہوں جبکہ میں بھی ان کا ایک حصّہ ہوں ۔ وہ ہر لمحہ یہی سوچتارہتا تھا سوچنا اس کی عادت بن گئی تھی ، سچ یہ ہے کہ جو سوچتے ہیں ان کی زندگ تنگ ہوجاتی ہے ۔ و ہ بھی اپنے آ پ کو تارِ عنکبوت میں اُلجھا ہوا محسوس کر رہا تھا اور جنات کا کوئی راستہ اسے دکھائی نہ دیتا تھا ۔ آہستہ آہستہ اس کی یہ الجھن غصّہ میں تبدیل ہوگئی تھی ۔ وہ اپنے غصّہ کی تپش سے ہر اس برائی کو جلا کر خاک کر دینا چاہتا تھا جو ناقابل برداشت تھی ۔ لیکن اس کے اختیار میں کچھ بھی نہیں تھا ۔ وہ بے بس تھا اورلاچاری اس کے اندر آتش فشانی لاوا اکٹھا کررہی تھی ۔
 پھر ایک دن وہ گوتم نہ ہوتے ہوئے بھی گوتم کی طرح نکل کھڑا ہوا ، گیان کی تلاش میں نہیں بلکہ ایسا غیبی قوت حاصل کر نے کے لیے ، جس سے وہ اپنے غصّہ کا اظہار کرسکے ۔ اس کامقصد زندگی سے فرار نہیں تھا ۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ کہیں تنہائی میں خدا کو اُکتا دینے والی ریاضت کرے گا تاکہ مجبور ہو کر خدااس سے معلوم کرے کہ توکیا چاہتا ہے پھر وہ خدا سے مانگے گا ایک ایسی غیبی قوت جو اس کے غصّہ کا اظہار کرسکے ۔ اپنے دل و دماغ میں خدا سے ملاقات کامنصوبہ لے کر وہ موسیٰ کی طرح طور کی تلاش میں چل دیا تھا ۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی خواہش مضحکہ خیز ہے اور اس کی کوشش دیوانگی ۔ لیکن کبھی کبھی آدمی دانستہ طورپر بھی جنونی حرکات کرتا ہے ۔ غرض کہ وہ بہت عرصہ تک اِدھر اُدھر بھٹکتا رہا ۔ پھر ایک دن یوں ہواکہ ایک درخت کے سائے میں ناکام و نامراد بیٹھا ہوا تھا کہ ایک سفید ریش بزرگ رونما ہوئے اور فرمایا :
 ’’ اے فانی انسان تو اس چند روزہ زندگی کو کیوں اپنے لیے وبال بنا رہا ہے ۔ ‘‘
 اس نے حیرانی سے بزرگ کو دیکھا اور دو زانوں ہو کر کہا ۔
 ’’ اے خدا آگاہ میں اس دنیائے فانی میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں وہ ناقابل برداشت ہے ۔ میرے اندر غصے کی ایک آگے پھیلی ہوئی ہے ۔ غصہ آنا فطری بات ہے لیکن اس دور کے انسان کو برائی دیکھ کر بھی غصّہ نہیں آتا ۔ ‘‘
 ’’ ہر چیز کی زیادتی احساس کومار دیتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان برائی کو پہچانتے ہوئے بھی محسوس نہیں کرتا ۔ تم کیوں پریشان ہوتے ہو، تم بھی بے حس ہوجاؤتمہاری پریشانی دُور ہوجائے گی ۔ ‘‘ یہ مشورہ دیتے وقت بزرگ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی ۔ اُس نے نفی میں سر ہلایا اور کہا ۔
’’ نہیں —میں ایسا نہیں کرسکتا ۔ میں بُرائی ختم کرنا چاہتا ہوں ۔ اے پیر ومرشد مجھے ایک ایسی غیبی قوت چاہیے جس سے میں برائی کوختم کردوں کیا آپ میری مدد کرسکتے ہیں ؟ ‘‘
’’ تم کس کس برائی کو ختم کروگے لیکن اگر تم چاہتے ہو تو داہنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دو۔‘‘
 بزرگ کے کہنے پر اس نے اپنا داہنا ہاتھاان کے ہاتھ میں دے دیا ۔ انہوں نے پوری قوت سے اس کی ہتھیلی کو اپنی ہتھیلیوں میں دبایا اور فرمایا :
’’ جا اب تیری اس ہتھیلی میں فنا کرنے کی قوت آگئی ہے توجس کی طرف بھی ہتھیلی کا رُخ کرے گا وہ جل کر خاک ہو جائے گا ۔ لیکن یاد رکھ کہ اس کا استعمال تو صرف ایک بار کرسکے گا ۔ جا تجھے دنیا میں جو لوگ سب سے زیادہ بُرے لگیں انہیں جلا کر راکھ کردے ۔‘‘
 اتنا کہہ کر وہ بزرگ اس کی آنکھوں سے روپوش ہوگئے ۔ اس نے اپنے داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھا ۔ خوف اور خوشی کے عالم میں فوراً ہی اس نے ہتھیلی کو چھپالیا ۔ اب وہ خوش تھا کہ اس نے اپنی مُراد پالی تھی ۔
 جب وہ شہر میں واپس لوٹا تھا تو اس نے اپنا داہنا ہاتھ اپنی جیب میں چھپالیا تھا اسے ڈر تھا اگر کسی کو اس کی غیبی طاقت کاعلم ہوگیا تو اس کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے ۔ اس نے ا سی لیے اس بات کو کسی کے روبرو ظاہرنہیں کیا تھا کہ بعض باتو ں کا اظہار موت کا سبب بھی بن جاتا ہے ۔ اسے یہ بھی خوف تھاکہ کہیں کسی ناقابل برداشت شے کو دیکھ کر اس کا ہاتھ اس طرف نہ اٹھ جائے اسی لیے اس نے ایک دستانہ پہن لیا تھا ۔
 اب اسے تلاش تھی اس بدترین منظر کی ، جو انسانیت کے لیے بد نما داغ ہو، تاکہ وہ اپنے غصّہ کا اظہار کرسکے ۔ اُس نے فیصلہ کیا تھا کہ سب سے پہلے کریہہ منظر کے لیے وہ غیبی قوت کو استعمال کرے گا ۔ یوں تو ہر جگہ دل کو تکلیف دینے والے منظر دکھائی دے رہے تھے لیکن ان میں سے بیشتر کو دیکھتے دیکھتے وہ بھی نظر انداز کرنے لگا تھا ۔ پھر ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک شہر میں مذہب کے نام پر فساد ہوگیا ہے ۔ ہر طرف چیخ و پکار مچی ہوئی ہے ، ا یک فرقہ دوسرے فرقہ کے افراد کو بے دردی سے قتل کررہا ہے ایک دوسرے کے گھروں کو آگ لگا رہیں ۔ اس بھیانک منظر میں جو بات اُسے غصّہ دلا رہی تھی وہ یہ تھی کہ کچھ دیوانے لوگ جوان لڑکیوں کو گھروں سے نکال کر سڑکوں پر لے آئے تھے اور ان کے کپڑوں کو تارتار کر کے ان کی عزّتیں برباد کر رہے تھے ۔ درندگی کے اس عالم کو دیکھ کر وہ تیش میں آگیا تھا اور چاہتا تھا کہ غیبی طاقت کا استعمال کرے لیکن یہ سوچ کر رُک گیا کہ ابھی اس سے زیادہ گھناؤ نے منظر رونما ہوں گے ، اس نے اپنے غصّہ کو ضبط کیا اور آنکھیں بند کرکے آگے چل دیا ۔
 آگے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ایک مقام پر مرد عورت اورمعصوم بچوں کی بہت سی لاشیں پڑی ہیں پاس ہی ایک خالی بس کھڑی ہوئی ہے اُس نے قریب جاکر معلوم کیا کہ یہ سب کیسے ہوا؟ ایک شخص نے ڈرتے ہوئے اُسے بتایاکہ کچھ وحشی لوگوں نے بس روک کر بغیر کسی سبب کے ان بے گناہوں کو موت کی نیند سلادیا ۔ یہ سن کر اس کے داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کھلنے کے لیے بے چین ہوگئی ، اس نے پھر ایک بارضبط کیا اور آگے بڑھ گیا یہ دیکھنے کے لیے کہ ابھی اور کیاکیا دیکھنا ہے اور پھر اس نے دیکھاکہ اچانک کئی عمارتوں میں بموں کے دھاکے ہوئے اور ان دھماکوں کے ساتھ عمارتیں اور ان کے اندر موجودافراد پرزے ہوکر بکھر گئے ، اس نے دریافت کیا ، ان کا قصور کیا تھا ؟ معلوم ہوا —کچھ نہیں—غصّہ کی حالت میں اس کا ہاتھ جیب سے باہر آگیا ۔ لیکن اس نے پھر ضبط کیا ۔
اس کی بے چینی دن بدن بڑھتی جارہی تھی ، اب اس کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے پاس غیبی طاقت کے استعمال کا صرف ایک موقع تھا اور ہر منظر اسے بدترین دکھائی دے رہا تھا ، اسی پریشانی کے عالم میں اس نے پھر دیکھا کہ کچھ سپاہی ایک آدمی کو گرفتار کرکے لے جارہے ہیں معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ آدمی مسلسل اپنی بیٹی کی عصمت لوٹتا رہا تھا، دوسری جانب اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک دوسالہ معصوم بچی کی لاش کو ہاتھوں پر اٹھا کر لے جارہے ہیں جب اس نے موت کا سبب معلوم کیا تو ایک شخص نے بتایا کہ ایک ظالم نے اس معصوم کو اپنی ہوس کا شکار بنایا ، جس کے صدمے سے اس کی موت ہوگئی ۔ اس نے اپنے غصّہ کودبانے کے لیے اپنی انگلیوں کو بھینچ لیا اور تیزی سے آگے بڑھا، ایک مکان کے قریب اسے نسوانی چیخیں سنائی دیں ،اس نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا ایک نوجوان عورت کو کچھ لوگ جلارہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ تیرے کم جہیز لانے کی سز اہے تیرے جلنے سے لوگ عبرت حاصل کریں گے اور اپنی بیٹیوں کو کم جہیز دے کر رخصت نہیں کریں گے ۔‘‘
اس کا چہرہ غصّہ سے تمتمانے لگا وہ تیزی سے جنگل کی طرف بھاگا کہ انسانوں کے اس شہر میں حیوانی معاشرہ پل رہا تھا ۔ وہ بہت دیر تک سوچتا رہا کہ سب سے بدتر اور گھناؤنا منظر کو ن سا تھا لیکن اُسے سب ہی منظر گھناؤنے اور قابلِ نفرت لگے ۔ وہ سب کو جلا کر راکھ کردینا چاہتا تھا لیکن یہ ناممکن تھا ۔ بالآخر اُسے ایک ہی راستہ سُجھائی دیا بہت غورو فکر کے بعد اُس اپنے داہنا ہاتھ جیب سے باہر نکالا ، ہاتھ چڑھے ہوئے دستانے کو اُتار اور اپنے غصہ کا اظہار کرنے کے لیے اپنی ہتھیلی کا رُخ اپنی ہی جانب کردیا ۔


٭٭٭

پروفیسر ابن کنول-ایک تعارف: ڈاکٹر عزیر احمد

0 comments

پروفیسرابن کنول ایک اجمالی خاکہ

اصل نام : ناصر محمود کمال
قلمی نام : ابن کنول
والد : معروف قومی شاعر قاضی شمس الحسن کنول ڈبائیوی
تاریخ ولادت : 15؍ اکتوبر 1957 (بہجوئی ضلع مرادآباد)
ابتدائی تعلیم : گنور(بدایوں) کے ایک اردو میڈیم اسلامیہ اسکول میں۔
مزیدتعلیم : مسلم یونی ورسٹی ،علی گڑھ(1967سے 1978تک)
ایم فل(اردو)،پی ایچ ڈی : دہلی یونی ورسٹی،دہلی (1978-1984)
ملازمت:1985تا حال شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی،دہلی
کتابیں:
1
۔ تیسری دنیا کے لوگ (افسانے ) 1984
2
۔ بند راستے (افسانے ) 2000
3
۔ ہندوستانی تہذیب بوستان خیال کے تناظر میں 1988
(’
بوستال خیال ایک مطالعہ‘ کے نام سے 2005 میں دوبارہ شائع ہوئی)
4
۔ ریاض دلربا(اردو کا پہلا ناول) (تحقیق) 1990 
5
آؤ اردو سیکھیں(قاعدہ) 1993
6
۔ داستان سے ناول تک(تنقید) 2001
- 7
انتخاب سخن(اردو شاعری کا انتخاب) 2005
8
۔ منتخب غزلیات 2005
9
۔ منتخب نظمیں 2005
10
۔ اصناف پارینہ(قصیدہ، مثنوی اور مرثیہ) 2005 
11
۔ تنقید و تحسین(تنقیدی مضامین کا مجموعہ) 2006 
12
تحقیق وتدوین (ترتیب) 2007
13
۔ میرامن (مونو گراف) 2007 
14
۔ باغ وبہار ( مقدمہ و متن) 2008 
15
۔ پہلے آپ (ڈرامہ)2008
16
۔ نظیر اکبرآبادی کی شاعری 2008 
17
۔ مضراب (کنول ڈبائیوی کا کلیات معہ مقدمہ)2010 
18
۔ اردو افسانہ (افسانوی تنقید) 2011
19
۔ پچاس افسانے(افسانوی مجموعہ)2014
20
۔ تنقیدی اظہار2015
21
۔ فسانہء عجائب(مرتبہ)2016 
22
۔ اردو لوک ناٹک: روایت اوراسالیب(کنول ڈبائیوی کی تحقیق)مرتبہ 2014
چند اہم غیر ملکی اسفار:
امریکہ ، ماریشس ، انگلینڈ ، پاکستان اور روس کے عالمی سمیناروں میں اردو کی نمائندگی کی ہے۔ 
انعامات و اعزازات:
1۔ سرسید ملینیم ایوارڈ ، دہلی برائے اردو فکشن 2001 ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پیش کیا۔
2
۔ ہریانہ اردو اکادمی کا کنور مہیندر سنگھ ایوارڈ برائے ادبی خدمات 2007۔ گورنر ہریانہ جناب اخلاق الرحمان قدوائی کے ہاتھوں ملا۔
3
۔ تیسری دنیا کے لوگ ، ہندوستانی تہذیب بوستان خیال کے تناظر میں، داستان سے ناول تک، بند راستے ، تنقید وتحسین اور اردو افسانہ پر اترپردیش اردو اکادمی ، بہار اردواکادمی، اور مغربی بنگال اردو اکادمی نے انعامات سے نوازا۔
4
۔ افسانہ بند راستے پر 1979میں دہلی یونی ورسٹی نے کٹھپالیا گولڈ میڈل دیا۔ جسے سابق نائب صدر جمہوریہ جناب بی۔ ڈی۔ جٹی نے اپنے ہاتھوں پیش کیا۔ 
5
۔ دہلی اردو اکاڈمی فکشن ایوارڈ 2008
6
۔عبدالغفورنساخ ایوارڈ،مغربی بنگال اردو اکاڈمی،کلکتہ 2017

ابن کنول (پروفیسر ناصر محمود کمال) کی پیدائش ضلع مرادآباد کے قصبہ بہجوئی میں ایک زمیندارخاندان میں ہوئی۔ تاریخ پیدائش 15۔ اکتوبر 1957 ہے ۔ والد محترم مشہور قومی شاعر قاضی شمس الحسن کنول ڈبائیوی تھے ۔ ان کے اجداد شاہ جہاں کے عہد میں ہندوستان آئے اور قاضی کے عہدے سے نوازے گئے حکومت کی طرف سے جاگیریں دی گئیں۔ بعد میں آپ کے بزرگ قصبہ ڈبائی میں آکر رہائش پذیر ہوگئے۔ آپ کا خاندان علمی و ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے مشہور تھا۔دادا قاضی شریعت اﷲ (متوفی 1930) ایک قابل وکیل تھے ۔ پردادا قاضی ادہم علی فارسی اور سنسکرت کے عالم تھے
قصبہ ڈبائی علمی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ اس قصبے نے اردو ادب کو کئی اہم شخصیات دی ہیں ۔ وفاؔ ڈبائیوی، دعاؔ ڈبائیوی، انتظار حسین ، منیب الرحمان اور نداؔ فاضلی جیسے اکابرین علم و فن اسی قصبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آزادی سے پہلے یہاں علمی وا دبی محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں جن میں ہر طبقہ کو لوگ شوق سے شامل ہوا کرتے تھے ۔ مشاعروں سے سبھی مذاہب کے لوگ لطف لیا کرتے تھے ۔ بعد میں ان میں سے اکثر پاکستان چلے گئے یا علی گڑھ اور دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے۔
ا ان کے والد کنول ڈبائیوی کی شاعری وطن کی محبت کے جذبے سے معمور ہے ۔ وہ ایک سچے محب وطن تھے ۔ ان کی شاعری اس کا نمونہ ہے ۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے "بساط زیست" اور ’’سوزوطن‘‘ اور  ان کی زندگی ہی میں شائع ہوچکے تھے ۔ حال ہیں میں ان کی شاعری کو ایک کلیات کی شکل میں پروفیسر ابن کنول نے ’مضراب‘ کے نام سے شائع کیا ہے ۔وہ ایک اچھے محقق بھی تھے انہوں نے لوک ناٹک پر بھی کام کیا تھا۔ لوک ناٹک پر اردو زبان میں اب تک کوئی کتاب نہیں ہے۔ انہوں نے بڑی محنت سے لوک ناٹک کی تاریخ اور اس فن کے بارے میں تفصیلات فراہم کی ہیں۔ یہ کتاب ابھی اشاعت کے مرحلہ میں ہے ۔
کنول ڈبائیوی کی شاعری کو پروفیسر آل احمد سرور ، پروفیسر مسعود حسین خاں، خواجہ احمد فاروقی ،میکش اکبرآبادی اور پروفیسر عبدالحق جیسے مشہور ناقدین فن نے سراہا ہے۔

تعلیم:
ابن کنول نے اپنی ابتدائی تعلیم ضلع بدایوں کے قصبہ گنور میں ایک اسلامیہ اسکول میں حاصل کی۔اسکول اردو میڈیم تھا۔ آپ 1962 میں پہلی جماعت میں داخل ہوئے آپ کے پہلے استاد حاجی صفدر علی مرحوم تھے ۔ پانچویں جماعت کے بعد آپ نے آگے کی تعلیم کے لئے علی گڑھ کا رخ کیا اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے منٹو سرکل اسکول (جو سیف الدین طاہر ہائی اسکول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ) میں داخل ہوئے ۔ 1972 میں ہائی اسکول مکمل کرنے کے بعد پری یونی ورسٹی سائنس میں داخلہ لیا۔ آپ بتاتے ہیں کہ والد ین میڈیکل کالج میں داخلہ دلاناچاہتے تھے ۔ دوسرے لوگوں کی طرح ان کی بھی خواہش تھی کہ ان کا لڑکا بڑا ہوکر ڈاکٹر یا انجینئربنے ۔ مگر بقول ابن کنول پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ بی اے میں اردو بنیادی مضمون قرار پایا اور اس طرح والد کی علمی وراثت کو سنبھالنے کے لئے آپ نے اسی وادی میں قدم رکھا جس کے راہ رو ان کے والد محترم تھے ۔ 1978 میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ایم اے کیا ۔ یہاں کی علمی فضا سے بھر پور استفادہ کیا۔ پروفیسر ابن کنول کی خوش نصیبی تھی کہ انہیں علی گڑھ میں پروفیسر خورشید الاسلام ،پروفیسر قاضی عبدالستار، ڈاکٹر خلیل الرحمان اعظمی، پروفیسر شہریار، پروفیسر نورالحسن نقوی، پروفیسر عتیق احمد صدیقی، پروفیسر منظر عباس نقوی، پروفیسر نعیم احمد اورپروفیسر اصغر عباس جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ایم اے مکمل کرنے کے بعدآپ نے دہلی یونی ورسٹی کا رخ کیا ۔ اس کے بعد ابن کنول نے دہلی یونی ورسٹی سے اپنا رشتہ اس طرح قائم کیا کہ پھر اس دن سے لے کر آج تک قائم ہے ۔ پی ایچ ڈی میں آپ نے ڈاکٹر تنویر احمد علوی کی نگرانی میں ’بوستان خیال کا تہذیبی و لسانی مطالعہ ‘ کے عنوان سے تحقیقی کام کیا۔ آپ کی یہ کاوش کتابی شکل میں بھی شائع ہوئی۔ دہلی میں آپ کو بانئ شعبۂ اردو خواجہ احمد فاروقی اور مشہور ترقی پسند نقاد قمر رئیس سے بھی شرف تلمذ حاصل کرنے کا موقع ملا۔
ادبی نشوونما:
ابن کنول ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد کنولؔ ڈبائیوی ایک قومی شاعر تھے ، شعروادب کی خدمت آپ کا مشغلہ تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کی تربیت میں رہ کر آپ کے ادبی ذوق کو جلا ملی ہوگی۔ ابن کنو ل کے والد کہا کرتے تھے کہ ہماری زمینداری ہماری اولاد ہے ۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی۔ اس کا نتیجہ ہے کہ الحمدﷲ ان کے سبھی لڑکوں نے اعلی تعلیم حاصل کی۔ اسکول کے زمانے میں ہی آپ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھنے لگے تھے ۔ آپ کے اسکول کے ساتھی اسلم حنیف شاعری کیا کرتے تھے اورآپ کہانی لکھے آ تھے ۔ کبھی کبھی ان سے متأثر ہوکرابن کنول بھی شاعری میں طبع آزمائی کرلیا کرتے تھے ۔ ابن کنول بتاتے ہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنی تخلیقات پڑھ کر سناتے اور خوش ہوتے ۔ یہ ابتدائی زمانے کی شاعری اور افسانے ظاہر ہے کہ اس معیار کی نہیں ہوتی تھیں کہ انہیں افسانہ یا شاعری میں شمار کیا جاتا۔ لیکن کہتے ہیں کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ یہ ابتدائی نگارشات ابن کنول کے مستقبل کے ادبی سفر کی تمہید تھے ۔ ابن کنول کے ادبی ذوق کو جلا بخشنے میں علی گڑھ کی ادبی و علمی فضا کا بھی بڑا ہاتھ ہے ۔ ایم اے میں آپ’’انجمن اردو ئے معلی‘‘کے سکریٹری رہے ۔ یہ وہی انجمن ہے جس کی بنیاد مولانا حسرت موہانی نے رکھی تھی۔ اسلم حنیف سے متأثر ہوکر ابن کنول نے اس زمانے میں انسان کے چاند پر قدم رکھنے پر پہلی نظم کہی تھی جو ماہنامہ نور رامپور میں شائع ہوئی۔ لیکن جلد ہی ابن کنول نے اندازہ لگا لیا کہ ان کا حقیقی میدان افسانہ ہے ۔ اس وجہ سے آپ نے اپنی توجہ اسی طرف رکھی۔ ابتدا میں ناصر کمال کے نام سے افسانے لکھتے تھے ۔ لیکن 1975 سے ابن کنول کے نام سے افسانے لکھنے لگے ۔ ابن کنول اصل میں آپ کے والد کی طرف نسبت ہے ۔باقاعدہ افسانہ لکھنے کا آغاز 1972 سے ہوا۔آپ کا پہلا مطبوعہ افسانہ ’اپنے ملے اجنبی کی طرح ‘ ہے جو 1974میں آفتاب سحر (سکندرآباد) نامی رسالے میں شائع ہوا۔ جب 1973میں آپ نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا تو قاضی عبدالستار کی سرپرستی مل گئی۔ قاضی عبدالستار کے مکان پر ماہانہ نشستیں ہوتی تھی جس میں نوجوان ادیب اپنی نگارشات پیش کیا کرتے تھے اور قاضی عبدالستار اور دیگر ان پر تبصرہ کرتے تھے ۔ ان نوجوان ادیبوں اور شاعروں میں جو لوگ تھے ان میں سے چند اہم نام یہ ہیں:شارق ادیب ، سید محمد اشرف، غضنفر، پیغام آفا قی، طارق چھتاری ، غیاث الرحمان، صلاح الدین پرویز، آشفتہ چنگیزی، فرحت احساس، اسعد بدایونی، مہتاب حیدر نقوی وغیرہ۔ 
علی گڑھ میں تعلیم کے دوران آپ کے افسانے ملک کے معروف ادبی رسالوں میں شائع ہونے لگے تھے ۔ جن میں شاعر، عصری ادب، آہنگ، صبح ادب اور نشانات وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ابن کنول نے بتایا کہ ’بندراستے ‘ جب1976 میں عصری ادب میں شائع ہوا تو محمد حسن نے اس کی بڑی تعریف کی۔ طالب علمی کے زمانے میں اردو کے اس عظیم ناقد سے تحسین کے کلمات کسی سند سے کم نہیں تھے ۔
دہلی یونی ورسٹی میں داخل ہونے کے بعد بھی افسانہ نگاری کا سلسلہ برقرار رہا۔ یہاں آکر پروفیسر قمر رئیس اور ڈاکٹر تنویر احمد علوی کی تربیت میں آپ کے اندر تنقیدی اور تحقیقی صلاحیتیں پروان پائیں۔ 
ملازمت:
ابن کنول تعلیم کے زمانے سے ہی ادبی دنیا میں اپنی پہچان بنا چکے تھے ۔ جہاں آپ نہیں گئے تھے وہاں آپ کا نام پہنچ چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی سلسلہ ختم ہونے کے بعد جلد ہی آپ کو اپنے مادر علمی دہلی یونی ورسٹی میں ملازمت مل گئی۔ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد 1985 میں سی ایس آئی آر کی طرف سے شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی میں ریسرچ سائنٹسٹ کے طور پرآپ نے اپنی ملازمت شروع کی۔ اس کے بعد آپ نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ اپنے صلاحیتوں کے بل پر ترقی کے منازل طے کرتے رہے۔1987 سے لے کر 1990تک شعبۂ اردو ہی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ کی حیثیت سے کام کیا۔ اسی دوران جنوری 1990میں باقاعدہ مستقل لکچرر کے عہدے پر آپ کی تقرری ہوئی۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک وہ شعبہ میں ایک مستقل استاد کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ 1998 میں ریڈر ، اور جنوری 2006 میں ترقی کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدے تک پہنچے ۔ 2005سے 2008تک شعبۂ اردو ، دہلی یونی ورسٹی کے صدر بھی رہے ۔ 
علمی و منصبی حصولیابیوں کے باوجود ابن کنول ایک سادہ زندگی گزارنے کے قائل ہیں۔ وہ ایک ملنسار ہنس مکھ انسان ہیں۔اپنے شاگردوں کے ساتھ ان کا معاملہ ایک استاد سے بڑھ کر دوست کا ہوتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ درخت پر پھل آتے ہیں تو اس کی شاخیں جھک جاتی ہیں۔ ابن کنول کی حیثیت بھی ایسے پھل دار درخت کی ہے جس کی شاخیں اپنے شاگردوں او ر احباب کے لئے جھکی رہتی ہیں۔
کسی مصور سے پوچھا گیا کہ تمہاری سب سے اچھی تصویر کون سی ہے تو اس نے کہا کہ آنے والی تصویر۔ ابن کنول کا قلم مستقل رواں ہے ۔ وہ آج بھی اپنی علمی وادبی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شعبہ کے سینئر استاد کی حیثیت سے طلبہ واساتذہ میں یکساں مقبول ہیں۔ افسانہ ، تنقید، اور تحقیق ہر میدان میں ایک سے بڑھ کر ایک کاوش سامنے آرہی ہے ۔ ان کا ہر قدم ایک نئی منزل کا پتہ دیتا ہے ۔ اس وجہ سے ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں بھی وہ اپنے زرخیز قلم سے گلستان اردو کی آبیاری کرتے رہیں گے ۔

ابن کنول کا قلم اب بھی رواں ہے ۔ ان کے افسانے اور علمی و ادبی مضامین ملک وبیرون ملک کے رسالوں میں شائع ہورہے ہیں۔ قومی و بین الاقوامی سمیناروں میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے اس فہرست میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ قلم کار کا قلم اور مقرر کی زبان اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ قلم کار کا قلم ہمیشہ اسے کچھ نہ کچھ لکھنے کے لئے اکساتا رہتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنے اندر اس قسم کی بے چینی نہیں پاتا ہے تو حقیقی معنوں میں وہ قلمکار نہیں ہے ۔ 
ابن کنول کے اس مختصر سے سوانحی خاکہ کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ ایک قلم کار ہیں۔ ہمیشہ کچھ نہ کچھ لکھنے والے قلم کار۔ وہ اپنے قلم کا ذائقہ بدلنے کے لئے مختلف اصناف میں سے جسے بھی چاہتے ہیں چنتے ہیں اور اپنے اندر کی آواز کو اپنے قاری تک پہنچاتے ہیں۔ ان کی تحریریں قاری کو عزم وحوصلہ دیتی ہیں۔ حالات سے نبرد آزما ہونے کا سلیقہ دیتی ہیں۔ ابن کنول کے یہاں آج کے قلم کاروں کے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ 
میں نے ان کے افسانوں کو بار بار پڑھا۔ ہر مرتبہ مجھے ان کے اندر کچھ نیا ملا ہے۔ غالباً یہی وہ چیز ہے جس کو پروفیسر عتیق اﷲ نے بین السطور سے تعبیر کیا ہے ۔ ابن کنول کے افسانے پس متن بھی کچھ بیان کرتے ہیں۔ اس پس متن کو پڑھنے کے لئے افسانوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ 
***


میں کیوں لکھتا ہوں ؟

0 comments
آہستہ آہستہ خوف بڑھتا جا رہا تھا جس کی وجہ سے میرا دل کسی مشین کی مانند دھڑکنے لگا تھا ۔مجھے اس دھڑکن کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی ۔میں نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی عجیب و حشت کا عالم تھا ۔میرا جسم لرزرہا تھا ،مجھے ایسا لگا میرے دماغ کی رگیں پھٹ جا ئیں گی ۔میرابدن ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائے گا ۔اس ہیبت ناک ماحول سے بچنے کے لئے میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں،لیکن میرے اندر کی آنکھیں کُھلی ہوئی تھیں،مجھے سب کچھ دکھائی دے رہا تھا ،میری بے چینی اور زیادہ بڑھ گئی تھی اور اسی عالم میں میں گھر کی طرف بھا گا شاید دیواروں کے اندر خود کو قید کر کے کچھ سکون ملے ۔کمرے میں داخل ہو تے ہی میں نے تمام کھڑ کی ،دروازے بند کر لئے تاکہ اُ ن تمام خوفناک مناظر کو نہ دیکھ سکوں۔لیکن کمرے میں تیز روشنی کے باوجود مجھے اندھیرا محسوس ہو رہا تھا ،مجھے ایسا لگا جیسے دیواریں ہل رہی ہیں ،کھڑکی دروازے چیخ رہی ہیں اور کُھلنا چاہتے ہیں ۔اسی حالت میں بستر پر لیٹ گیااور نہ جانے کب نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔
پھر یوں ہوا کہ ایک سفید ریش بزرگ میرے قریب آئے ،میرے سر پر ہاتھ پھیرا ،میں فوراًہی انہیں پہچان گیا اور لپٹ گیا وہ میر ے نا نا تھے۔انہوں نے انتہا ئی محبت و شفقت سے مجھ سے پو چھا
’’تم اتنے پریشان کیوں ہو ؟‘‘
’’معلوم نہیں ‘‘میں نے آہستہ سے کہا میں سہما ہو ا تھا
’’لیکن میں جا نتا ہوں ۔تمہاری پریشانی کی وجہ‘‘
اُن کی یہ بات سن کر میں حیران ہوا
’’آپ کیسے جانتے ہیں ؟میری بے چینی کی وجہ کیا ہے ؟‘‘
’’تمہارے اندرایک طوفان اُبل رہا ہے۔تم باہر کے ماحول سے خوفزدہ ہو‘‘نا نا نے پیار سے کہا
’’ہاں میرے اندر ایک آتش فشاں پھٹنے کے لئے بے قرار ہے ۔مجھے ڈر ہے کہ میں ایک دن بکھر جاؤں گا ‘‘میں نے ڈرتے ڈرتے کہا
’’نہیں ایسا نہیں ہو گا ۔تمہیں یاد ہے جب تم بہت چھو ٹے تھے ،چاندنی رات میں میں نے تمہیں اور تمہارے بھا ئیوں کو ایک کہانی سنائی تھی ۔ایک شاہزادہ تھا، خواب میں ایک خو بصورت شاہزادی کو دیکھ کر گھر سے نکل پڑا ،جنگل جنگل ،دریا دریا اور اونچے اونچے پہاڑوں سے گزر کر ایک طلسم میں جا پھنسا لیکن پھر مشکلات کادور ختم ہوا اور انجام بخیر ہوا،اُسے خوشیاں نصیب ہوئی ۔‘‘
مجھے سب کچھ یاد آگیا نانا ہر روز گھر کے بڑے سے آنگن میں نیم کے درخت کے نیچے اونچے اونچے پایوں والی چار پائی پر لیٹ کر کہانیاں سنایا کر تے تھے۔میں نے نا نا سے پو چھا
’’لیکن میری ان پریشانیوں کا ،میرے اندر کے اس طوفان کا ان کہانیوں سے کیا رشتہ ہے ؟‘‘
’’بہت گہرا رشتہ ہے ۔میری کہانیوں کے شاہز ادے طلسمات میں گرفتار تھے۔ آج تم اُس طلسم میں پھنسے ہوئے ہو ‘‘
’’لیکن اس طلسم سے نکلنے کا راستہ کیا ہے ؟طریقہ کیا ہے ؟‘‘
میں نے دریافت کیا انہوں نے ایک بار میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا
’’کل جب تم چھو ٹے تھے تو تمہیں کہانیاں سُن کر سکون ملتا تھا آج تم کہا نیاں بیان کر و ،تمہارے اندرکا طوفان تھم جائے گا ‘‘اتنا کہہ کر انہوں نے میری پیشانی کو بوسہ دیا اور غائب ہوگئے ۔میں گھبراکر بسترسے اٹھ بیٹھا ،کمرے میں روشنی اب بھی پھیلی ہوئی تھی ۔میں نے دیکھا میز پر رکھے ہوئے کو رے کا غذہواسے پھڑپھڑا رہے تھے اور برابررکھا ہوا قلم بے چین تھا ۔میں نے فوراً قلم اُٹھا لیا،کا غذ کو سیاہ کر دیا ۔آہستہ آہستہ طوفان تھم سا گیا ،آتش فشاں خاموش ہو گیا ،کھڑکی دروازوں نے چیخنا بند کر دیا۔ میں نے آسمان کی طرف نگاہ اُٹھا ئی میرے نا نا بادلوں کے بیچ کھڑے مسکرارہے تھے۔ انہوں نے مجھے راستہ دکھا دیا تھا ،انہوں نے کہانی بیان کر نے کا فن سکھا دیا ۔بچپن میں میں کہانیاں سننے کے لئے بے چین رہتا تھا ،بڑے ہو کر کہانیاں سنا کر سکون ملتا تھا۔
سچ ہے اسی طرح میرا کہا نی سے رشتہ قائم ہو ا،میں نے کہانی بیان کر نے کا فن اپنے بزرگوں سے سیکھا ،کہانی میرے آس پاس گھو متی تھی ،کبھی میں اُسے پکڑنے کے لئے بھاگتا تھا اور کبھی وہ مجھے اپنی گرفت میں لے لیتی تھی ۔کوئی بھی کہانی کار خود کہانی نہیں لکھتا کہانی خود اپنے آپ کو لکھواتی ہے ،کہانی کار کو قلم اٹھا نے کے لئے مجبورکرتی ہے ،وہ اس وقت تک کہانی کار کے دل و دماغ پر وار کر تی رہتی ہے جب تک صفحہ ٔقرطاس پر نہیں سما جاتی ۔
بظاہر ایک کہانی کار اپنی تسکین کے لئے کہا نی لکھتا ہے ،لیکن اصلاً صرف اپنے لئے نہیں سب کے لئے کہانی لکھتا ہے ،جس طرح ایک ماں پہلے اپنے بچے کو دیکھ کر بار بار خوش ہو تی ہے پھر سب کے سامنے پیش کر کے مسرّ ت محسوس کر تی ہے ۔میں جب کہا نی لکھتا ہوں تو لکھنے کے بعد باربار پڑھ کر پہلے اپنے اندر کے طوفان کو شانت کر تا ہوں پھر دوسروں کے سامنے بیان کر کے تسکین پا تا ہوں۔
ایک دن یوں ہوا کہ جب میں تنہائی میں بیٹھا لکھ رہا تھا میرا بیٹا میرے پاس آیا اور کہنے لگا:
’’ابّا آپ ہر وقت کیا لکھتے ہیں ؟‘‘
میں نے اس معصوم کی طرف دیکھا اور کہا:
’’میں کہانی لکھ رہا ہوں ‘‘
’’کہانی ؟‘‘اس نے چو نک کر کہا ’’کہا نی تو چڑیا اور چڑے کی ہو تی ہے ۔جو نانی ماں سنا تی ہیں ۔کیا آپ چڑیا اور چڑے کی کہا نی لکھ رہے ہیں ؟‘‘
’’نہیں میں شیر اور آدمی کی کہانی لکھ رہا ہوں ۔شیر جو آدمی سے ڈرتا ہے ۔‘‘میرا بیٹا مسکرایا اور میرا مذاق اڑاتے ہوئے معصومانہ انداز میں کہنے لگا
’’آپ جھوٹ لکھ رہے ہیں ۔شیر کسی سے نہیں ڈرتا ۔وہ تو جنگل کا راجا ہے ‘‘
’’جاؤ اپنی نانی سے کہا نی سنو۔جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو سمجھو گے ‘‘
وہ چلا گیا اُسی وقت میرا ایک دوست اسلم کمرے میں داخل ہو ا اور کہنے لگا
’’یار بچّے کو کیابہکا رہے ہو ،شیر ،شیر ہو تا ہے ‘‘
میں نے اسلم کو بیٹھنے کا اشارہ کر تے ہوئے کہا
’’تم نے وہ کہانی نہیں سُنی جس میں شیر اپنے بچّے کو نصیحت کر تا ہے کہ جنگل میں کسی سے نہیں ڈرنا اس لئے کہ تم جنگل کے راجا ہو لیکن آدمی سے بچ کر رہنا وہ انتہائی خطرناک مخلوق ہے ‘‘
اسلم میری اس بات پر ہنسا اور پو چھنے لگا :
’’تم کہانیاں کیو ں لکھتے ہو ؟‘‘
اُ س کے اِس سوال پر میں اُسے غور سے دیکھا اور کہا
’’میں دنیا کو آئینہ دکھا نا چاہتا ہوں دنیا جو بہت خوبصورت ہے لیکن آدمی کی شرپسندی نے اسے جہنم بنا دیا ہے ‘‘۔
’’کیا تمہارے کہا نیاں لکھنے سے دنیا جنّت بن جا ئے گی ‘‘
’’نہیں ۔لیکن میں خود سے شرمندہ نہیں رہو ں گا ۔اس لئے کہ میں برائی کو دیکھ کر خاموش نہیں ہوں ۔کسی نہ کسی طرح اس کا اظہار کر تا ہوں ‘‘
میں جذباتی ہو گیا تھا اسلم نے پھر کہا
’’لیکن اس دور کے ہر انسان کو بُرائی دیکھ کر غصہ کیوں نہیں آتا ؟‘‘
’’ہر چیز کی زیادتی احساس کو ماردیتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان بُرائی کو پہچانتے ہوئے بھی بُرا محسوس نہیں کرتا ،آدمی آدمی سے لڑتا ہے ۔زمین کے لئے ،زن کے لئے ،زر کے لئے ،عصمتیں لٹتی رہتی ہیں ،بچے بوڑھے قتل ہو تے رہتے ہیں، سڑکوں پر لو گ تڑپ تڑپ کر جان دے دیتے ہیں اور لو گ انجان بن کر گذر جا تے ہیں ۔لیکن میں انجان نہیں بن پا تا اور کچھ کر بھی نہیں سکتا اس لئے کہانیاں لکھتا ہوں۔ کہانیاں میرے غصّہ کا اظہار ہیں،کہانیاں میری نفرت کو ظاہر کر تی ہیں ،کہانیاں میرے احساس کو بیان کر تی ہیں ،کہانیاں لکھ کر میں محسوس کر تا ہوں کے شاید میں نے دنیا میں اپنی مو جود گی اور ذمہ داری کا تھوڑا سا حق اداکر دیا ‘‘۔
اسلم با لکل خاموشی سے سن رہا تھا کہنے لگا :
’’تم سچ کہتے ہو ۔ہم سب بے حس ہو چکے ہیں ،ہماری آنکھیں دیکھ نہیں پاتیں۔ ہمارے کان سُن نہیں سکتے ۔‘‘
’’نہیں ۔ایسا نہیں ہے ۔سب دیکھ سکتے ہیں ۔سب سُن سکتے ہیں لیکن جان بوجھ کر دیکھنا نہیں چا ہتے ۔سُننا نہیں چاہتے ۔سنو!میں تمہیں اپنی کہانیوں کے کچھ حصّے سناتا ہوں ۔شاید تم سمجھ پاؤ کہ میں کہانیاں کیوں لکھتا ہوں ---
’’جب وہ خو فناک آواز یں نکا لتا ہوا ہجوم بستی کے نزدیک آیاتو انہوں نے آگ برساتی ہوئی مشعلوں کو مکا نوں کے اوپر پہنچا دیا اور چلانے لگے
’’مارو۔ختم کر دو۔بھا گو ۔چھوڑو۔یہ زمین ہماری ہے ۔یہاں صرف ہم رہیں گے ۔ہماری زمین خالی کرو۔‘‘
۔۔۔ذراسی دیر میں پوری بستی جل کر راکھ میں تبدیل ہو گئی اور ایسا شمشان بن گئی جہاں زندہ لو گوں کی ارتھیاں جلائی گئی ہوں ۔۔۔
                                                                (تیسری دنیا کے لو گ)
’’آئے دن بادشاہ کے خلاف جلسے ہوتے اور جلوس نکلتے ۔حکمراں طبقہ اس سے پریشان تھا ۔ایک دن اتفاق سے میں بادشاہ تک پہنچ گیا ۔بادشاہ نے مجھ سے مشورہ طلب کیا ۔میں نے کہا اگر اس ملک میں رہنے والی قوموں کو آپس میں لڑوادیا جائے تو ان کا ذہن حکومت کی کمزوریوں کی جانب سے ہٹ جائے گا ۔بادشاہ کو یہ تجویز پسند آئی، اس نے یہ ذمہ داری بھی میرے سُپرد کی ۔پھر میں اس ملک کے شہرو ں میں گھومتا رہا اور سو چتا رہا کہ کس طرح قو می یک جہتی کو ختم کیا جائے ۔بالآخر میں کا میاب ہوا۔ میں نے قوموں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے نفرت کا زہر بھر دیا اور جب وہ اُگلا تو پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات پھیل گئے ۔یک جہتی ٹوٹ گئی ،جو لو گ ہم نوالہ اور ہم پیالہ تھے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ۔رعایا کا سکون ختم ہوا لیکن بادشاہ کا عیش و آرام لو ٹ آیا کیو نکہ اب لو گ بادشاہ کے بجائے ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھا ل رہے تھے ‘‘۔            (وارث)
’’بالآخرسفر کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔۔۔۔کو ئی سمجھا رہا تھا
’’دیکھو بچّوں کو ٹرین سے نیچے نہیں اُترنے دینا ‘‘
کوئی کہہ رہا تھا
’’بھئی رات وات میں کھڑکیاں بند رکھنا ،آج کل حالات ایسے نہیں ہیں کہ بے فکری سے سفر کیا جاسکے ۔آخر دہشت گرد ٹرین پر رات میں ہی حملہ کر تے ہیں ‘‘
کسی نے مشورہ دیا
’’دیکھو راستے میں کسی کو اپنے نام نہیں بتانا۔پچھلے مہینے جو ٹرین روک کر کچھ لوگوں کو مار اتھا تو پہلے ان کے نام ریزرویشن چارٹ میں دیکھ لئے تھے ویسے موقع ملے تو دو تین اسٹیشن نکلنے کے بعد وہ چارٹ ہی وہاں سے ہٹا دینا ،پھر تو اس کی ضرورت بھی نہیں رہتی ‘‘
کسی نے ایک اوردوراندیشانہ بات کہی
’’ریزرویشن میں اگر تم مجہول نام لکھا تے تو زیادہ اچھا رہتا جیسے پنکی ،گڈی ،ٹونی‘‘
ان سب باتوں سے اس کی بیوی کے دل میں خوف کی پر چھائیاں گہری ہو تی جارہی تھیں اور اِس کا اظہار اُس نے اِ س طرح دبے الفاظ میں کیا تھا
’’میرا تو دل گھبرارہا ہے ۔ایسانہیں ہو سکتا کہ ہم اگلے سال چلیں‘‘                                                                                                            (سفر)
’’پھر ایک دن یو ں ہوا کہ بہت سویرے بڑی تعداد میں مسلح فوج نے بستی کو گھیر لیا اور جبراًگھروں کو خالی کر ادیا ۔گھروں کے خالی ہو تے ہی بلڈوزروں کی کرخت آوازیں سنائی دیں اور تھو ڑی دیر میں ان دل شکن آوازوں کے ڈھیر وں کے نیچے ارمانوں کے محل چکنا چور ہو گئے وہ سب اپنے ٹو ٹے پھوٹے سامان کے ڈھیروں پر کھڑے اپنی بے گھری کا تما شا دیکھتے رہے ۔فوج مزاحمت کر نے والوں کے سینوں کی طرف بندوقوں کا رخ کئے کھڑی تھی وہیں کچھ دور پر ایک شخص اپنے ٹرانزسٹرپر یہ گیت سن رہا تھا '' اب کوئی گلشن نہ اُجڑے اب وطن آزاد ہے ‘‘
                                                                                (سوئٹ ہوم)
’’کیا کچھ اور سننا چا ہو گے ‘‘میں نے اسلم سے سوال کیا
’’نہیں بس کرو ۔مجھ میں اتنی قوت نہیں ‘‘اسلم کا کر ب اس کے چہرے پر اُبھر آیا۔ میں نے اس سے معلوم کیا
’’شاید تم سمجھ گئے ہو گے میں کیوں لکھتا ہوں ۔میں اپنے احساسات کو الفاظ دینے کی کو شش کر تا ہوں ۔واقعات اور حادثات چہار جانب بکھرے ہوئے ہیں ۔ان کا بیان الفاظ چاہتا ہے ،میں انہیں الفاظ دے کر رقم کرنا چاہتا ہوں ۔میں اس میں کتنا کا میاب ہوں ۔اس کا فیصلہ تم کرو گے ۔تم سب۔

                                                                پروفیسرابن کنول

                                                 صدر، شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی، دہلی

ابن کنول کا پس حقیقت کو کسب کرنے کا فن: پروفیسرعتیق اﷲ

0 comments
 ادب، زندگی اور زندگی کی سریت کو گرفت میں لانے کی ایسی کوششوں سے عبارت ہے جسے ہربار ناکامی کا سامنا ہوتا ہے ۔ سعی لاحاصل ہی مزید جستجوؤں کو مہمیز کرنے اور تعاقب کی مہم کو سرگرم رکھتی ہے ۔ میں نے زندگی کی سریت سے قبل زندگی کا حوالہ دیا ہے اور وہ بھی محض اس خیال کو ملحوظ رکھ کر کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ جسے عام معنوں میں زندگی کا نام دیا جاتا ہے اس کے گوناگوں ٹھوس متعلقات سے میں انکاری ہوں۔ زندگی کا حوالہ اس سریت کے ساتھ مشروط ہے جس کے تجربے سے ہم بہر قدم اور بہر لحظہ دوچار ہوتے رہتے ہیں۔
 حقیقت سے زیادہ پس حقیقت کو کسب کرنے اور اسے علم کا حصہ بنانے کا میلان صرف ادب ہی کے ساتھ خصوصیت نہیں رکھتا، فلسفہ، نفسیات، اور مذہب نے بھی اپنے اپنے طور پر یہ کام کیا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ادب کی لچک پذیری ان تمام صیغوں اور علوم سے استفادہ کرنے کی نسبتاً زیادہ اہل ہے ۔ مختلف علوم کے لئے ادب ممکن ہے کوئی خاص معنی نہ رکھتا ہو، اور ادب کی موجودگی اور عدم موجودگی سے ان علوم کی صحت پر شاید ہی کوئی مثبت یا منفی اثر پڑے ۔ برخلاف اس کے ادب کے لئے ہر وہ علم مفید مطلب ہے ، جس کا مسئلہ انسان ہے ، ادب نے ہمیشہ ان علوم کی یافت سے روشنی اخذ کی ہے اور اپنے کو ثروت مند بنایا ہے ۔ مذہب کا سارا مابعد الطبیعیاتی نظام پس حقیقت کی سریت کے ساتھ مشروط ہے ۔ اور ادب کابھی اپنا ایک مابعد الطبیعیاتی نظام ہے جس کے محرکات کے دائرے میں مکان ہی نہیں لامکان کی خاص قدر ہے ۔ یہی وہ قدر ہے جو ابن کنول کے افسانوں کو ایک دوسرے معنی کے ساتھ مربوط کردیتی ہے ۔
ابن کنول کے افسانوں کو اسی معنی میں writerly یعنی مصنفانہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ فکر سے زیادہ ہمارے وجدان کو حرکت میں رکھتے ہیں۔ بہ ظاہر یہ جتنے لب کشا ہیں بہ باطن ہی اتنے گمبھیر اور خود کوش۔ تخلیقی شرکت کے وسیلے ہی سے قاری کسی حد ت ان کے بطون میں اتر سکتا ہے ۔ کسی حد تک ـ اس لئے کہ مصنفانہ تخلیق ہمیشہ open ended ہوتی ہے ۔ اس کی گرہیں جتنی اندر کھلتی ہیں اتنی ہی الجھتی بھی جاتی ہیں۔ ابن کنول کے افسانوں کی مابعدالطبیعیاتی دنیا کا رخ اندر کی طرف ہے ۔ اس وجہ سے دھند آمیز ہے ۔
“ہوا یوں تھا کہ ایک روز جب آفتاب کی روشنی عالم آب و گل کو منور کرچکی تھی، بازاراور دکانیں معمول کے مطابق پر رونق ہونے لگی تھیں کہ فضا میں ایک عقاب تیز رفتار پرواز کرتا ہوانظر آیا۔ قابل ذکر بات یہ تھی کہ اس کے پنجوں میں ایک مارسیاہ لٹکا ہوا تھا۔ تھوڑٰی دیر تک وہ عقاب بازارکے اوپر منڈلاتا رہا۔ پھریوں ہوا کہ وہ سانپ بازار میں خرید و فروخت کرتے ہوئے ایک شخص کی گردن پر جاپڑا۔ اس سے پہلے کہ وہ آدمی کسی کو مدد کے لئے پکارتا سانپ نے اپنے زہریلے ڈنک سے اس کی پیشانی کو داغ دیا۔ ابھی کوئی دوسرا شخص اس کے قریب بھی نہ پہنچا تھا کہ عقاب زمین کی طرف جھپٹا اور سانپ کو اپنے پنجوں میں دباکر غائب ہوگیا۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ کوئی شخص بھی کوئی رائے قائم نہ کرسکا اور اس کو محض ایک اتفاق سمجھا گیا۔”
(ہمارا تمہارا خدا بادشاہ)
“پھر یوں ہوا کہ جب دوسرے دن مقراض آفتاب نے دامن شب تار تار کیا تو چاروں سمت چار گھوڑسوار نظر آئے ، وہ چاروں ہی بادشاہ کے معتمد خاص تھے ۔ جنہیں چھ ماہ قبل بادشاہ نے ایک امتحان کے لئے رخصت دی تھی۔ خواص و عوام نے ان کا خیر مقدم کیا۔ وہ چاروں اس خیرمقدم سے خوش ہوئے کہ ان کے اندر شاہانہ تمکنت بیدار ہونے لگی تھی۔ شہر میں داخل ہونے کے بعد چاروں وزیر قلعۂ شاہی میں پہنچے اور بازیابی کی اجازت چاہی۔ بادشاہ نے کہ ان کا منتظر تھا انہیں دیوان خاص میں حاضر ہونے کی اجازت عطا کی۔ چاروں نے بادشاہ کے قریب پہنچ کر کورنش ادا کی اور بادشاہ کا اشارہ پاکر اس کے روبرو مسند پر بیٹھ گئے ۔ چند لمحوں کے بعد بادشاہ نے ابو عقیل سے دریافت کیا۔
اے ابو عقیل! تم بیان کرو کہ اس چھ ماہ کے عرصے میں تم پر کیا گذری؟‘‘              (وارث)
 ’’ بعد کئی صدیوں کے زید بن حارث کی آنکھوں میں آفتاب کی کرنیں چبھنے لگیں۔ اس نے آہستہ آہستہ پلکوں کو حرکت دی اور اپنے گرد دیکھا۔ روشنی دھیرے دھیرے غار کے اندر داخل ہوچکی تھی۔ اس نے اپنے خوابیدہ ساتھیوں پر نظر ڈالی اور محسوس کیا کہ ان کی پلکوں کے نیچے تپش پھیلنے لگی ہے ۔ اور عنقریب یہ وا ہوجانا چاہتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ اس کا کوئی ساتھی اپنی پلکوں کو وا کرتا اور آفتاب کی روشنی آنکھوں میں اتارلیتا۔ اس نے آوازی۔
’’ساتھیو! کیا تم اپنی آنکھوں میں روشنی کی چبھن محسوس نہیں کرتے ؟‘‘اور اس آواز کے ساتھ سب کی آنکھوں میں آفتاب اتر گیا۔ ان سب نے اپنے جسموں کو حرکت دی اور نیم دراز ہوئے ۔ ابوسعد کف دست سے اپنی آنکھوں کو ملتا ہوا یوں گویا ہوا:
اے حارث کے بیٹے ، کیا ہم سوئے ہوئے تھے
 ’ہاں شاید ہم سب ہی سوگئے تھے۔‘ زید بن حارث نے جواب دیا اور استفسار کیا۔
 ’اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ ہم نے کتنا عرصہ غفلت میں گذارا
 ’صرف ایک شب
                                (صرف ایک شب کا فاصلہ)
میں نے یہاں حوالۂ بالا تین افسانوں کے اقتباسات ہی پر اکتفا کیا ہے ۔ میرا مقصود یہ بتانا ہے کہ ابن کنول کے افسانوں کی جو مثالی دنیا ہے اور اتنی تحیر خیز کیوں ہے۔ ابن کنول نے جن کرداروں کے نام دیے ہیں۔ جو صورت حالات خلق کی ہے اورجن توقع شکن وقوعوں سے اپنے بیانیہ کو ایک خاص تنظیم دی ہے ، ان کا کیا کوئی محل، کوئی معنویت، کوئی منطق ہے ؟ ظاہر ہے یہ افسانے کی دنیا سے جو واقعی سے زیادہ تخیلی، استعاراتی، یا تمثیلی دنیا ہے اور یہ دنیا کسی خارجی سند یا جواز کی محتاج نہیں ہوتی۔ ان افسانوں اور ان کے علاوہ بند راستے کے تقریبا تمام افسانوں میں بڑی فن کارانہ مہارت کے ساتھ کام میں لیا گیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ افسانے سیاسی طنز کی مثال بھی ہیں۔ جیسے موجودہ پورا نظام انسانیت اخلاقی زوال کا شکار ہے ۔ ‘ہماراتمہارا خدا بادشاہ’ کے بادشاہ کی فکرمندی، وارث کے بادشاہ وقت کا ابوشاطر کو ولی عہد بنانے اور ‘ صرف ایک شب کا فاصلہ’ میں خاتون بادشاہ وقت کی اجتماعی نس بندی کے اطلاق کے پیچھے ہمارے وقتوں کی سنگدلانہ سیاست کا آسانی کے ساتھ نظارہ کیا جاسکتا ہے ۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ابن کنول کی خلق کردہ ان نامانوس دنیاؤں کی دو یا دو سے زیادہ معنوی سطحیں ہیں، ان کا تعلق کس حد تک ہمارے وقتوں کے افسانوں کی دوچہرگی سے ہے یا جس حاکم وقت خاتون اور اس کے بیٹے کا تذکرہ ہے ان کے اصل نام کیا ہیں۔ ابن کنول نے تخصیص کو تعمیم کے رنگ میں پیش کرکے اپنی کہانیوں کوہر طرف سے کھلا رکھا ہے ۔ اپنے قاری کو یہ چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ اپنے طور پر اور اپنی بساط کے مطابق انہیں معنی دے سکتا ہے ۔ یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب متن TEXT کے اندر کوئی دوسرا متن کارفرماہو۔ جسے SUB-TEXT کا نام دیا جاتا ہے ۔ تحت المتن مصنف کے شعور یا لاشعور کا خلق کردہ ہوتا ہے جسے دریافت کرسکتا ہے قاری۔ گویا ابن کنول اپنے قاری کو اپنی تخلیقیت کے جوہر کو آزمانے کہ مہلت فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنے طور پر ان امکانات کو تلاش کرسکتا ہے جو بہ ظاہر نگاہوں سے اوجھل اور UNSTATED ہیں، میرے نزدیک ابن کنول کی کہانیوں کا مطالعہ اسی نہج پر کرنے ضرورت ہے ۔