اتوار، 6 اگست، 2017

پروفیسر ابن کنول-ایک تعارف: ڈاکٹر عزیر احمد

0 comments

پروفیسرابن کنول ایک اجمالی خاکہ

اصل نام : ناصر محمود کمال
قلمی نام : ابن کنول
والد : معروف قومی شاعر قاضی شمس الحسن کنول ڈبائیوی
تاریخ ولادت : 15؍ اکتوبر 1957 (بہجوئی ضلع مرادآباد)
ابتدائی تعلیم : گنور(بدایوں) کے ایک اردو میڈیم اسلامیہ اسکول میں۔
مزیدتعلیم : مسلم یونی ورسٹی ،علی گڑھ(1967سے 1978تک)
ایم فل(اردو)،پی ایچ ڈی : دہلی یونی ورسٹی،دہلی (1978-1984)
ملازمت:1985تا حال شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی،دہلی
کتابیں:
1
۔ تیسری دنیا کے لوگ (افسانے ) 1984
2
۔ بند راستے (افسانے ) 2000
3
۔ ہندوستانی تہذیب بوستان خیال کے تناظر میں 1988
(’
بوستال خیال ایک مطالعہ‘ کے نام سے 2005 میں دوبارہ شائع ہوئی)
4
۔ ریاض دلربا(اردو کا پہلا ناول) (تحقیق) 1990 
5
آؤ اردو سیکھیں(قاعدہ) 1993
6
۔ داستان سے ناول تک(تنقید) 2001
- 7
انتخاب سخن(اردو شاعری کا انتخاب) 2005
8
۔ منتخب غزلیات 2005
9
۔ منتخب نظمیں 2005
10
۔ اصناف پارینہ(قصیدہ، مثنوی اور مرثیہ) 2005 
11
۔ تنقید و تحسین(تنقیدی مضامین کا مجموعہ) 2006 
12
تحقیق وتدوین (ترتیب) 2007
13
۔ میرامن (مونو گراف) 2007 
14
۔ باغ وبہار ( مقدمہ و متن) 2008 
15
۔ پہلے آپ (ڈرامہ)2008
16
۔ نظیر اکبرآبادی کی شاعری 2008 
17
۔ مضراب (کنول ڈبائیوی کا کلیات معہ مقدمہ)2010 
18
۔ اردو افسانہ (افسانوی تنقید) 2011
19
۔ پچاس افسانے(افسانوی مجموعہ)2014
20
۔ تنقیدی اظہار2015
21
۔ فسانہء عجائب(مرتبہ)2016 
22
۔ اردو لوک ناٹک: روایت اوراسالیب(کنول ڈبائیوی کی تحقیق)مرتبہ 2014
چند اہم غیر ملکی اسفار:
امریکہ ، ماریشس ، انگلینڈ ، پاکستان اور روس کے عالمی سمیناروں میں اردو کی نمائندگی کی ہے۔ 
انعامات و اعزازات:
1۔ سرسید ملینیم ایوارڈ ، دہلی برائے اردو فکشن 2001 ڈاکٹر منموہن سنگھ نے پیش کیا۔
2
۔ ہریانہ اردو اکادمی کا کنور مہیندر سنگھ ایوارڈ برائے ادبی خدمات 2007۔ گورنر ہریانہ جناب اخلاق الرحمان قدوائی کے ہاتھوں ملا۔
3
۔ تیسری دنیا کے لوگ ، ہندوستانی تہذیب بوستان خیال کے تناظر میں، داستان سے ناول تک، بند راستے ، تنقید وتحسین اور اردو افسانہ پر اترپردیش اردو اکادمی ، بہار اردواکادمی، اور مغربی بنگال اردو اکادمی نے انعامات سے نوازا۔
4
۔ افسانہ بند راستے پر 1979میں دہلی یونی ورسٹی نے کٹھپالیا گولڈ میڈل دیا۔ جسے سابق نائب صدر جمہوریہ جناب بی۔ ڈی۔ جٹی نے اپنے ہاتھوں پیش کیا۔ 
5
۔ دہلی اردو اکاڈمی فکشن ایوارڈ 2008
6
۔عبدالغفورنساخ ایوارڈ،مغربی بنگال اردو اکاڈمی،کلکتہ 2017

ابن کنول (پروفیسر ناصر محمود کمال) کی پیدائش ضلع مرادآباد کے قصبہ بہجوئی میں ایک زمیندارخاندان میں ہوئی۔ تاریخ پیدائش 15۔ اکتوبر 1957 ہے ۔ والد محترم مشہور قومی شاعر قاضی شمس الحسن کنول ڈبائیوی تھے ۔ ان کے اجداد شاہ جہاں کے عہد میں ہندوستان آئے اور قاضی کے عہدے سے نوازے گئے حکومت کی طرف سے جاگیریں دی گئیں۔ بعد میں آپ کے بزرگ قصبہ ڈبائی میں آکر رہائش پذیر ہوگئے۔ آپ کا خاندان علمی و ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے مشہور تھا۔دادا قاضی شریعت اﷲ (متوفی 1930) ایک قابل وکیل تھے ۔ پردادا قاضی ادہم علی فارسی اور سنسکرت کے عالم تھے
قصبہ ڈبائی علمی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ اس قصبے نے اردو ادب کو کئی اہم شخصیات دی ہیں ۔ وفاؔ ڈبائیوی، دعاؔ ڈبائیوی، انتظار حسین ، منیب الرحمان اور نداؔ فاضلی جیسے اکابرین علم و فن اسی قصبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آزادی سے پہلے یہاں علمی وا دبی محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں جن میں ہر طبقہ کو لوگ شوق سے شامل ہوا کرتے تھے ۔ مشاعروں سے سبھی مذاہب کے لوگ لطف لیا کرتے تھے ۔ بعد میں ان میں سے اکثر پاکستان چلے گئے یا علی گڑھ اور دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے۔
ا ان کے والد کنول ڈبائیوی کی شاعری وطن کی محبت کے جذبے سے معمور ہے ۔ وہ ایک سچے محب وطن تھے ۔ ان کی شاعری اس کا نمونہ ہے ۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے "بساط زیست" اور ’’سوزوطن‘‘ اور  ان کی زندگی ہی میں شائع ہوچکے تھے ۔ حال ہیں میں ان کی شاعری کو ایک کلیات کی شکل میں پروفیسر ابن کنول نے ’مضراب‘ کے نام سے شائع کیا ہے ۔وہ ایک اچھے محقق بھی تھے انہوں نے لوک ناٹک پر بھی کام کیا تھا۔ لوک ناٹک پر اردو زبان میں اب تک کوئی کتاب نہیں ہے۔ انہوں نے بڑی محنت سے لوک ناٹک کی تاریخ اور اس فن کے بارے میں تفصیلات فراہم کی ہیں۔ یہ کتاب ابھی اشاعت کے مرحلہ میں ہے ۔
کنول ڈبائیوی کی شاعری کو پروفیسر آل احمد سرور ، پروفیسر مسعود حسین خاں، خواجہ احمد فاروقی ،میکش اکبرآبادی اور پروفیسر عبدالحق جیسے مشہور ناقدین فن نے سراہا ہے۔

تعلیم:
ابن کنول نے اپنی ابتدائی تعلیم ضلع بدایوں کے قصبہ گنور میں ایک اسلامیہ اسکول میں حاصل کی۔اسکول اردو میڈیم تھا۔ آپ 1962 میں پہلی جماعت میں داخل ہوئے آپ کے پہلے استاد حاجی صفدر علی مرحوم تھے ۔ پانچویں جماعت کے بعد آپ نے آگے کی تعلیم کے لئے علی گڑھ کا رخ کیا اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے منٹو سرکل اسکول (جو سیف الدین طاہر ہائی اسکول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ) میں داخل ہوئے ۔ 1972 میں ہائی اسکول مکمل کرنے کے بعد پری یونی ورسٹی سائنس میں داخلہ لیا۔ آپ بتاتے ہیں کہ والد ین میڈیکل کالج میں داخلہ دلاناچاہتے تھے ۔ دوسرے لوگوں کی طرح ان کی بھی خواہش تھی کہ ان کا لڑکا بڑا ہوکر ڈاکٹر یا انجینئربنے ۔ مگر بقول ابن کنول پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ بی اے میں اردو بنیادی مضمون قرار پایا اور اس طرح والد کی علمی وراثت کو سنبھالنے کے لئے آپ نے اسی وادی میں قدم رکھا جس کے راہ رو ان کے والد محترم تھے ۔ 1978 میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ایم اے کیا ۔ یہاں کی علمی فضا سے بھر پور استفادہ کیا۔ پروفیسر ابن کنول کی خوش نصیبی تھی کہ انہیں علی گڑھ میں پروفیسر خورشید الاسلام ،پروفیسر قاضی عبدالستار، ڈاکٹر خلیل الرحمان اعظمی، پروفیسر شہریار، پروفیسر نورالحسن نقوی، پروفیسر عتیق احمد صدیقی، پروفیسر منظر عباس نقوی، پروفیسر نعیم احمد اورپروفیسر اصغر عباس جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ایم اے مکمل کرنے کے بعدآپ نے دہلی یونی ورسٹی کا رخ کیا ۔ اس کے بعد ابن کنول نے دہلی یونی ورسٹی سے اپنا رشتہ اس طرح قائم کیا کہ پھر اس دن سے لے کر آج تک قائم ہے ۔ پی ایچ ڈی میں آپ نے ڈاکٹر تنویر احمد علوی کی نگرانی میں ’بوستان خیال کا تہذیبی و لسانی مطالعہ ‘ کے عنوان سے تحقیقی کام کیا۔ آپ کی یہ کاوش کتابی شکل میں بھی شائع ہوئی۔ دہلی میں آپ کو بانئ شعبۂ اردو خواجہ احمد فاروقی اور مشہور ترقی پسند نقاد قمر رئیس سے بھی شرف تلمذ حاصل کرنے کا موقع ملا۔
ادبی نشوونما:
ابن کنول ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد کنولؔ ڈبائیوی ایک قومی شاعر تھے ، شعروادب کی خدمت آپ کا مشغلہ تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کی تربیت میں رہ کر آپ کے ادبی ذوق کو جلا ملی ہوگی۔ ابن کنو ل کے والد کہا کرتے تھے کہ ہماری زمینداری ہماری اولاد ہے ۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی۔ اس کا نتیجہ ہے کہ الحمدﷲ ان کے سبھی لڑکوں نے اعلی تعلیم حاصل کی۔ اسکول کے زمانے میں ہی آپ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھنے لگے تھے ۔ آپ کے اسکول کے ساتھی اسلم حنیف شاعری کیا کرتے تھے اورآپ کہانی لکھے آ تھے ۔ کبھی کبھی ان سے متأثر ہوکرابن کنول بھی شاعری میں طبع آزمائی کرلیا کرتے تھے ۔ ابن کنول بتاتے ہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنی تخلیقات پڑھ کر سناتے اور خوش ہوتے ۔ یہ ابتدائی زمانے کی شاعری اور افسانے ظاہر ہے کہ اس معیار کی نہیں ہوتی تھیں کہ انہیں افسانہ یا شاعری میں شمار کیا جاتا۔ لیکن کہتے ہیں کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ یہ ابتدائی نگارشات ابن کنول کے مستقبل کے ادبی سفر کی تمہید تھے ۔ ابن کنول کے ادبی ذوق کو جلا بخشنے میں علی گڑھ کی ادبی و علمی فضا کا بھی بڑا ہاتھ ہے ۔ ایم اے میں آپ’’انجمن اردو ئے معلی‘‘کے سکریٹری رہے ۔ یہ وہی انجمن ہے جس کی بنیاد مولانا حسرت موہانی نے رکھی تھی۔ اسلم حنیف سے متأثر ہوکر ابن کنول نے اس زمانے میں انسان کے چاند پر قدم رکھنے پر پہلی نظم کہی تھی جو ماہنامہ نور رامپور میں شائع ہوئی۔ لیکن جلد ہی ابن کنول نے اندازہ لگا لیا کہ ان کا حقیقی میدان افسانہ ہے ۔ اس وجہ سے آپ نے اپنی توجہ اسی طرف رکھی۔ ابتدا میں ناصر کمال کے نام سے افسانے لکھتے تھے ۔ لیکن 1975 سے ابن کنول کے نام سے افسانے لکھنے لگے ۔ ابن کنول اصل میں آپ کے والد کی طرف نسبت ہے ۔باقاعدہ افسانہ لکھنے کا آغاز 1972 سے ہوا۔آپ کا پہلا مطبوعہ افسانہ ’اپنے ملے اجنبی کی طرح ‘ ہے جو 1974میں آفتاب سحر (سکندرآباد) نامی رسالے میں شائع ہوا۔ جب 1973میں آپ نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا تو قاضی عبدالستار کی سرپرستی مل گئی۔ قاضی عبدالستار کے مکان پر ماہانہ نشستیں ہوتی تھی جس میں نوجوان ادیب اپنی نگارشات پیش کیا کرتے تھے اور قاضی عبدالستار اور دیگر ان پر تبصرہ کرتے تھے ۔ ان نوجوان ادیبوں اور شاعروں میں جو لوگ تھے ان میں سے چند اہم نام یہ ہیں:شارق ادیب ، سید محمد اشرف، غضنفر، پیغام آفا قی، طارق چھتاری ، غیاث الرحمان، صلاح الدین پرویز، آشفتہ چنگیزی، فرحت احساس، اسعد بدایونی، مہتاب حیدر نقوی وغیرہ۔ 
علی گڑھ میں تعلیم کے دوران آپ کے افسانے ملک کے معروف ادبی رسالوں میں شائع ہونے لگے تھے ۔ جن میں شاعر، عصری ادب، آہنگ، صبح ادب اور نشانات وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ابن کنول نے بتایا کہ ’بندراستے ‘ جب1976 میں عصری ادب میں شائع ہوا تو محمد حسن نے اس کی بڑی تعریف کی۔ طالب علمی کے زمانے میں اردو کے اس عظیم ناقد سے تحسین کے کلمات کسی سند سے کم نہیں تھے ۔
دہلی یونی ورسٹی میں داخل ہونے کے بعد بھی افسانہ نگاری کا سلسلہ برقرار رہا۔ یہاں آکر پروفیسر قمر رئیس اور ڈاکٹر تنویر احمد علوی کی تربیت میں آپ کے اندر تنقیدی اور تحقیقی صلاحیتیں پروان پائیں۔ 
ملازمت:
ابن کنول تعلیم کے زمانے سے ہی ادبی دنیا میں اپنی پہچان بنا چکے تھے ۔ جہاں آپ نہیں گئے تھے وہاں آپ کا نام پہنچ چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی سلسلہ ختم ہونے کے بعد جلد ہی آپ کو اپنے مادر علمی دہلی یونی ورسٹی میں ملازمت مل گئی۔ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد 1985 میں سی ایس آئی آر کی طرف سے شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی میں ریسرچ سائنٹسٹ کے طور پرآپ نے اپنی ملازمت شروع کی۔ اس کے بعد آپ نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ اپنے صلاحیتوں کے بل پر ترقی کے منازل طے کرتے رہے۔1987 سے لے کر 1990تک شعبۂ اردو ہی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ کی حیثیت سے کام کیا۔ اسی دوران جنوری 1990میں باقاعدہ مستقل لکچرر کے عہدے پر آپ کی تقرری ہوئی۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک وہ شعبہ میں ایک مستقل استاد کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ 1998 میں ریڈر ، اور جنوری 2006 میں ترقی کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدے تک پہنچے ۔ 2005سے 2008تک شعبۂ اردو ، دہلی یونی ورسٹی کے صدر بھی رہے ۔ 
علمی و منصبی حصولیابیوں کے باوجود ابن کنول ایک سادہ زندگی گزارنے کے قائل ہیں۔ وہ ایک ملنسار ہنس مکھ انسان ہیں۔اپنے شاگردوں کے ساتھ ان کا معاملہ ایک استاد سے بڑھ کر دوست کا ہوتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ درخت پر پھل آتے ہیں تو اس کی شاخیں جھک جاتی ہیں۔ ابن کنول کی حیثیت بھی ایسے پھل دار درخت کی ہے جس کی شاخیں اپنے شاگردوں او ر احباب کے لئے جھکی رہتی ہیں۔
کسی مصور سے پوچھا گیا کہ تمہاری سب سے اچھی تصویر کون سی ہے تو اس نے کہا کہ آنے والی تصویر۔ ابن کنول کا قلم مستقل رواں ہے ۔ وہ آج بھی اپنی علمی وادبی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شعبہ کے سینئر استاد کی حیثیت سے طلبہ واساتذہ میں یکساں مقبول ہیں۔ افسانہ ، تنقید، اور تحقیق ہر میدان میں ایک سے بڑھ کر ایک کاوش سامنے آرہی ہے ۔ ان کا ہر قدم ایک نئی منزل کا پتہ دیتا ہے ۔ اس وجہ سے ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں بھی وہ اپنے زرخیز قلم سے گلستان اردو کی آبیاری کرتے رہیں گے ۔

ابن کنول کا قلم اب بھی رواں ہے ۔ ان کے افسانے اور علمی و ادبی مضامین ملک وبیرون ملک کے رسالوں میں شائع ہورہے ہیں۔ قومی و بین الاقوامی سمیناروں میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے اس فہرست میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ قلم کار کا قلم اور مقرر کی زبان اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ قلم کار کا قلم ہمیشہ اسے کچھ نہ کچھ لکھنے کے لئے اکساتا رہتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنے اندر اس قسم کی بے چینی نہیں پاتا ہے تو حقیقی معنوں میں وہ قلمکار نہیں ہے ۔ 
ابن کنول کے اس مختصر سے سوانحی خاکہ کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ ایک قلم کار ہیں۔ ہمیشہ کچھ نہ کچھ لکھنے والے قلم کار۔ وہ اپنے قلم کا ذائقہ بدلنے کے لئے مختلف اصناف میں سے جسے بھی چاہتے ہیں چنتے ہیں اور اپنے اندر کی آواز کو اپنے قاری تک پہنچاتے ہیں۔ ان کی تحریریں قاری کو عزم وحوصلہ دیتی ہیں۔ حالات سے نبرد آزما ہونے کا سلیقہ دیتی ہیں۔ ابن کنول کے یہاں آج کے قلم کاروں کے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ 
میں نے ان کے افسانوں کو بار بار پڑھا۔ ہر مرتبہ مجھے ان کے اندر کچھ نیا ملا ہے۔ غالباً یہی وہ چیز ہے جس کو پروفیسر عتیق اﷲ نے بین السطور سے تعبیر کیا ہے ۔ ابن کنول کے افسانے پس متن بھی کچھ بیان کرتے ہیں۔ اس پس متن کو پڑھنے کے لئے افسانوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ 
***


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔